غازی پور،10؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے غازی پور ضلع میں اتوار کو پہلی بار فوج کے سربراہ وپن راوت شہید ویر عبد الحمید کی 52ویں شہید تقریب میں شامل ہونے کے لئے پہنچے۔آرمی چیف بپن راوت نے اپنی باتوں میں یہ واضح کیا کہ اگرلیڈرچاہیں تو پاکستان کے ساتھ بات چیت کاراستہ نکال سکتے ہیں لیکن فوج جس طرح چاہے گی صحیح وقت پر جواب دے گی۔آرمی چیف بپن راوت نے یہ بھی کہا کہ ڈوکلام جیسا واقعہ چین کے ساتھ دوبارہ نہ ہو اس کو یقینی بنانے کے لئے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔چین جانے والی راہ کے سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں گے۔آرمی چیف بپن راوت عبدالحمید کی شہادت کی تقریب میں شمولیت کے لئے غازی پور پہنچنے والے سب سے پہلے آرمی چیف ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آرمی کے سینئر افسر اس طرح حوصلے بڑھانے کے لئے پروگراموں میں جائیں تو اس سے نہ صرف فوج کا بلکہ علاقے کے نوجوانوں کا بھی حوصلہ بڑھتا ہے اور وہ فوج میں شامل ہونے کے لئے حوصلہ افزاء ہوتے ہیں۔آرمی چیف کے ساتھ ساتھ ان کی بیوی مدھولکا راوت نے بھی تقریب میں شرکت کی۔اس پروگرام کے دوران 1965اور 1971کی جنگ کے دوران شہید ہونے والوں کی بیوہوں کو اعزاز دیا گیا، علاقے کے لوگوں کی خواہش پر آرمی چیف نے غازی پور میں ایک فوجی تربیتی مرکز بھی کھول دیا لیکن اس سے زیادہ اہم بات انہوں نے بتایا کہ نوجوان کو قریبی فوجی ٹریننگ سینٹر میں تربیت لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فوج میں شمولیت اختیار کرسکیں۔آرمی چیف بپن راٹ نے بھی بتایا کہ سرحد پر صورتحال بالکل خراب نہیں ہے۔اس معاملے پر میڈیاکو ہدف تنقید بنانا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور سرحد پر حملے عام واقعات ہیں۔یہ اکثر ہوتا ہے اور ان کا اچھا جواب بھی دیا جاتا ہے۔